ادھوری خواہش
ادھوری خواہش
از قلم: عائشہ رضا عطاریہ
فائزہ آج پوری طرح سے ذہن بنائے ہوئے تھی کہ وہ اپنی امی کو منا کر رہے گی۔ سابعہ بی بی ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ہاتھ میں تسبیح لے کر کلمۂ طیّبہ کا ورد کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ فائزہ بھی نماز سے فارغ ہو کر امی کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ فائزہ کو امی کا موڈ آج کافی اچھا لگ رہا تھا۔ امی خوش خوش نظر آرہی تھیں۔ فائزہ آج ہمت کر کے اپنی خواہش ظاہر کرنا چاہتی تھی۔ صرف گھر کے حالات ناساز ہونے کی وجہ سے اپنی خواہش کو ظاہر نہ کر سکی تھی۔
فائزہ کی امی کا نام سابعہ تھا۔ سابعہ بی بی ایک نیک خاتون تھیں۔ صوم و صلاۃ کی پابندی کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق و کردار کی بھی مالک تھیں۔ جو بھی ان سے ایک بار ملاقات کرتا بہت متاثر ہوجاتا دوبارہ ملنے کی خواہش کرتا تھا۔ حسن اخلاق کی وجہ سے سابعہ بی بی اپنے خاندان کی پیاری اور لاڈلی بہو تھیں۔ اللہ پاک نے ان کو عظیم نعمت سے نوازا تھا۔ ان کے شوہر بھی ایک بہترین عالم دین تھے۔ ان کی ایک بیٹی فائزہ اور ایک بیٹا ارسلان بھی تھا، الحمدللہ ارسلان حافظ قرآن ہونے کے بعد درس نظامی (عالم کورس) کر رہا تھا۔
فائزہ بھی ہائی اسکول کے بعد درس نظامی کرنا چاہتی تھی یعنی عالمہ بننا چاہتی تھی اور اس کو بھی دین کی خدمت کرنے کا جذبہ اور شوق تھا، فائزہ کا یہ جذبہ اور شوق بہت قوی تھا، وہ ہر حال میں عالمہ بننا چاہتی تھی۔ فائزہ کو یہ جذبہ سابعہ بی بی کی اچھی تربیت سے حاصل ہوا۔ جس طرح سابعہ بی بی کو دین اسلام سے بے حد پیار تھا اسی طرح انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت پر بھی کافی توجہ دی تھی۔ وہ اپنے بچوں کی تربیت دین اسلام کے سانچے میں ڈھال کر کر رہی تھیں۔
فائزہ جب اپنے بھائی ارسلان کو جامعہ جاتے ہوئے دیکھتی تو فائزہ کا شوق مزید بڑھ جاتا تھا، وہ چاہتی تھی کہ امی سے ضد کر کے میں بھی جامعہ میں ایڈمیشن لے لوں۔ فائزہ کا یہ شوق دنیا کے لیے نہیں تھا، صرف اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تھا۔ وہ ایک کامیاب عورت بننا چاہتی تھی، وہ سیرت فاطمہ کو اپنانا چاہتی تھی۔ علم دین حاصل کرنے کا شوق اس لئے نہیں تھا کہ زمانہ اس کو عالمہ کہہ کر پکارے، زمانے میں اس کا ادب کیا جائے۔ فائزہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے نفع بخش علم حاصل کرنا چاہتی تھی۔ فائزہ ہمت کرتی کوشش کرتی مگر کچھ کہہ نہیں پاتی تھی، اس کے پیچھے بھی ایک راز پوشیدہ تھا جس کی وجہ سے فائزہ درس نظامی کرنے سے ابھی تک محروم تھی مگر وہ آج ہمت کر رہی تھی اور امی کا موڈ فریش دکھ کر امی کے پہلو میں جا بیٹھی تھی۔
سابعہ بی بی نے فائزہ کو اپنے پاس بیٹھا دیکھ کر پیار سے پوچھا: فائزہ بیٹا! آج آپ بہت خوش نظر آرہی ہیں، کیا مل گیا ہے آپ کو؟ فائزہ نے موقع غنیمت جان کر اپنی خواہش کو ظاہر کرنا مناسب سمجھا اور امی کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھا اور امی کے گلے لگ گئی۔ امی نے بھی فائزہ کو اپنے سینے سے لگا لیا اور کہنے لگیں: بیٹا کیا بات ہے؟ فائزہ کی آنکھیں بھر آئیں اور امی کے سامنے سر جھکا کر مؤدبانہ عرض کرنے لگی: امی میں بھی درس نظامی کرنا چاہتی ہوں، میں بھی عالمۂ دین بننا چاہتی ہوں مگر میں حالات کو پیش نظر رکھ کر آپ سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔ آج میرا من چاہا کہ آپ سے اپنے دل کی خواہش کو شیئر کروں۔ سو وہ آج میں نے آپ کے سامنے ظاہر کردی۔ امی آپ میرا بھی ایڈمیشن کرا دیجیے۔ فائزہ کا علم دین حاصل کرنے کا جذبہ دیکھ کر سابعہ بی بی کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک کر رخسار پر بہنے لگے۔
فائزہ نے دیکھا کہ امی رو رہی ہیں، امی کی آنکھوں سے آنسو نکل کر رخسار پر بہنے لگے ہیں۔ فائزہ نے اپنے دوپٹے سے امی کا چہرہ صاف کیا، پیار سے دونوں ہاتھوں سے امی کا چہرہ تھام لیا اور امی کی طرف پوری طرح سے متوجہ ہوکر پوچھنے لگی: میری پیاری امی! آپ رو کیوں رہی ہیں؟ بتائیں تو سہی۔ آپ کے رونے کی کیا وجہ ہے؟ سابعہ بی بی نے پیار بھری نظروں سے فائزہ کی طرف دیکھا اور کہنے لگیں: بیٹا! آپ کو تو معلوم ہے نا کہ آپ کے ابو کی آمدنی کتنی قلیل ہے، مشکل سے گھر کا خرچ چل پاتا ہے، فائزہ! ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی عالمۂ دین بنے اور دین کی خدمت سر انجام دے اور اپنے پیارے رب اور اس کے محبوب کو راضی کرے۔ مگر کیا کروں میری پیاری بیٹی! آپ کے ابو کی آمدنی ماہانہ چھ ہزار روپے ہے جس میں ارسلان کی پڑھائی کا بھی خرچ ہے اور میری دوائی کا بھی کافی خرچ ہے۔ اور ان چھ ہزار روپے میں پورے مہینے کا خرچہ بھی نہیں چل پاتا مہینہ پورا ہونے سے پہلے پیسوں کی اتنی قلّت ہوجاتی ہے کہ تنگدستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی کبھی تو قرض بھی لینا پڑجاتا ہے۔ اب میری جان! آپ ہی بتاؤ میں کس طرح آپ کی خواہش کو پورا کروں؟
فائزہ کے ابو مولانا شاکر صاحب ایک مسجد میں امامت کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ چار ہزار روپے ماہانہ مولانا شاکر صاحب کو مسجد سے ملتے تھے اور صبح شام مدرسے میں بھی بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیا کرتے تھے جس سے دو ہزار روپے ماہانہ مدرسے سے ملتے تھے، مولانا شاکر صاحب کی کل آمدنی چھ ہزار روپے ماہانہ تھی۔ مولانا شاکر صاحب ایک عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نیک دل اور بھلے آدمی تھے۔ ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔ انہیں اتنی تھوڑی آمدنی میں بھی دل کا سکون میسر تھا۔ ان کی زبان پر کبھی کوئی شکوہ گلہ نہیں تھا۔ وہ غریبی میں بھی بہت خوش نظر آتے تھے۔ سابعہ بی بی اکثر بیمار رہتی تھیں، کافی ٹائم سے شگر کی مریض تھیں۔
فائزہ امی کی گفتگو خاموشی کے ساتھ سن رہی تھی۔ یہی ایک وجہ تھی جو فائزہ اپنے امی ابو سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔ فائزہ ایک عقل مند اور دانش مند لڑکی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ابو کی آمدنی بہت تھوڑی ہے اور امی بھی اکثر بیمار رہتی ہیں اور ارسلان کی پڑھائی کا بھی خرچ ہے اور پھر پورے مہینے کا گھر کا خرچ ابو کی آمدنی سے پورا نہیں ہو پاتا۔ مہنگائی کا دور دورہ ہے۔ فائزہ نے یہ سوچ کر امی سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کوئی راستہ نکل ہی آئے اور میری خواہش پوری ہوجائے۔ فائزہ کو دینی کتابوں سے کافی لگاؤ تھا، مطالعے کا بھی بہت شوق تھا۔ فائزہ کا معمول تھا روزانہ گھر کے کام کاج سے فارغ ہوکر اپنا بقیہ ٹائم دینی کتابوں کا مطالعہ کرنے میں گزارتی۔ یہ سب سابعہ بی بی کی اچھی تربیت کا نتیجہ تھا۔
جس طرح سابعہ بی بی اپنے خاندان کی لاڈلی اور پیاری بہو تھیں اسی طرح فائزہ بھی اپنے خاندان کی ساری لڑکیوں میں ایک دل عزیز لڑکی تھی، فائزہ کا اخلاق وکردار بھی اپنی والدہ کی طرح اعلیٰ تھا۔ ایک تو سابعہ بی بی کی تربیت اور دوسرا فائزہ کے دینی کتابوں کے مطالعے نے فائزہ کو اتنا سنوار دیا تھا کہ جو بھی لڑکی فائزہ سے ایک بار ملاقات کرتی دوبارہ سے ملنے کی متمنِّی رہتی۔ فائزہ دین دار ہی نہیں بلکہ ایک ہنر مند اور سلیقہ شعار بھی تھی۔ اس کو گھر کے کام کاج کا بھی بہت شوق تھا۔ ہر وقت صفائی کا خیال رکھتی۔ اس نے اس حدیث کو پڑھا تھا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ فائزہ کوشش کرتی کہ اس کا جو بھی کام ہو صرف اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے ہو۔ فائزہ کی کوشش رہتی کہ اپنے آقا کی ہر سنت پر عمل کیا جائے۔ اپنے والدین کی بہت زیادہ خدمت کیا کرتی۔ بھائی ارسلان کا بھی بہت خیال رکھتی تھی۔ پنج وقتہ نماز کے ساتھ ساتھ نوافل کی بھی پابند تھی۔ فائزہ زیادہ تر نیک بی بیوں کے واقعات اور ان کی سیرت کو پڑھتی اور پڑھتے پڑھتے نیت کرتی کہ مجھے بھی ایسا ہی بننا ہے۔
فائزہ ایک بہت نیک لڑکی بن چکی تھی۔ سابعہ بی بی اپنی بیٹی کو دیکھ کر پھولے نہ سماتی تھیں، دل ہی دل میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتیں اور دعا کرتیں کہ اے اللہ! جیسی اولاد تو نے مجھے عطا فرمائی ہے ہر مسلمان کو عطا فرما۔ مگر کبھی کبھی فائزہ کو دیکھ کر غمگین ہوجاتی تھیں وہ اس لیے کہ ان کی بیٹی کی خواہش ادھوری تھی، فائزہ کا عالمہ بننے کا خواب وہ پورا نہ کرسکی تھیں، اس کی وجہ صرف اور صرف غریبی تھی۔ مگر فائزہ نے اپنے والدین کی خواہش کو پورا کردیا تھا۔ جیسا کہ وہ چاہتے تھے ویسا ہی بن کر دکھایا۔ مگر فائزہ ہمیشہ خوش رہتی، کبھی بھی اپنے والدین کو اس بات کا احساس نہ ہونے دیتی کہ اس کی خواہش ادھوری ہے۔ بس اللہ پاک سے دعا کیا کرتی تھی، فائزہ کو اللہ پاک کی ذات پر بھروسا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ جب اللہ پاک کی بارگاہ میں کسی جائز امر کے لیے دعا کی جائے تو وہ دعا رد نہیں کی جاتی۔ وہ کبھی نہ کبھی عالمہ ضرور بنے گی۔ اللہ پاک نے فائزہ کو ان تمام نعمتوں سے نوازا تھا جو وہ عالمۂ دین بن کر پانا چاہتی تھی۔
فائزہ شرم و حیاء کی پیکر تھی اور صبر و رضا بھی اس کی عادت میں شامل تھا۔ اللہ عزوجل کے خوف سے ہر وقت خوف زدہ رہتی۔ فائزہ میں تواضع و انکساری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ فائزہ کسی بھی کام میں مصروف ہوتی مگر اس کی زبان پر درود پاک کا نغمہ ضرور رہتا۔ ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کیا کرتی۔ گھر کے حالات کمزور ہونے کے باوجود کبھی شکوہ شکایت زبان پر نہ لاتی، جب دیکھو مسکراتی ہی نظر آتی۔ حالاں کہ درس نظامی کرنے کی خواہش اس کو غمگین کیے رہتی تھی لیکن وہ اس کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دیتی۔ فائزہ اپنے جذبے کو قائم رکھے ہوئے تھی۔ کوئی اسلامی بہن جب فائزہ سے ملاقات کرتی تو اس کو ایسا لگتا جیسا کہ یہ درس نظامی کیے ہوئے ہے، وہ باتوں ہی باتوں میں فائزہ سے پوچھ ہی لیتی: کیا آپ عالمہ ہیں؟ آپ نے کس مدرسے سے تعلیم حاصل کی ہے؟ اپنے لئے یہ الفاظ سن کر فائزہ بہت افسردہ ہوجاتی اور دل ہی دل میں اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض گزار ہوتی: اے میرے رب! مجھے بھی ایسا بنادے جیسا کہ میرے بارے میں لوگ گمان رکھتے ہیں، میرے مولا! میری ادھوری خواہش کو پورا فرمادے۔ آمین۔

0 تبصرے