میں کوئی روبوٹ ہوں
میں کوئی روبوٹ ہوں؟
از قلم: افضال احمد
ابھی تک یہیں ہو، سنا نہیں، کتنی بار کہوں تم سے، کتنی بار سمجھاؤں؟ راحل میں تم کو سمجھا سمجھا کر عاجز آ گیا ہوں۔ تم نے ساری حدوں کو پار کردیا ہے۔ تم بالکل بیوقوف انسان ہو۔ تھوڑا تو دماغ استعمال کیا کرو۔ اگر کوئی آدمی کوئی بات سمجھا رہا ہے تو اس کو غور سے سننا چاہیے، سمجھنا چاہیے، اور اس پر عمل کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن تم ہو کہ نہ سننا ہے، نہ سمجھنا، نہ غور دینا ہے۔ تمھارے تو کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ دوسرے تو بیوقوف ہیں نا جو تم کو سمجھاتے ہیں۔ کسی کی بات کی تو لاج رکھنی چاہیے۔ کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔
راحل یہ تمھارے لیے لاسٹ وارننگ ہے اگر تم نے آئندہ بے توجہی اور نظر اندازی سے کام لیا، جو کہا گیا اس کو کرنے سے من چرایا تو تمھارے لیے مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ سمجھے؟ بیوقوف، جاھل انسان۔
راحل تم مسکرا رہے ہو۔ تم کو تمھارے ابو نے اتنی باتیں سنائی اور تم ہو کہ ابھی بھی ہنس رہے ہو. راحل جب گھر سے باہر نکلا تو دانش نے اس سے مخاطب ہو کر کہا۔
راحل نے تنقیدانہ مسکراتے ہوئے کہا:
ارے یار اس میں ٹینشن لینے کی کیا بات ہے۔ یہ کونسی نئی چیز ہے؟ یہ کونسی نئی بات ہے؟ یہ تو روز ہوتا ہے۔ اس طرح کی باتیں: جاھل ، بیوقوف، گدھا، نہ جانے اور کتنی باتیں ہیں جو میں ہر روز یا دوسرے تیسرے دن، بسا اوقات دن میں دو بار بھی سنتا رہتا ہوں۔
پھر راحل افسردگی کے ساتھ بولا:
اچھا دانش میری بات سنو. میں کیا کروں؟ ہوں! یار میں کوشش تو کرتا ہوں نا. میں کوئی روبوٹ ہوں کیا جو کہا فورا کردیا۔ یا مشین ہوں جس نے کبھی تھکنا ہی نہیں ہے۔ ابو تو یہ چاہتے ہیں کہ ہر کام ان کے کہنے سے پہلے ہو جائے۔ ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔
مجھے تھوڑا سا ٹائم تو دیں۔ راحل نے کہا۔ تھوڑا وقت تو دیں۔ آخر میں بھی تو انسان ہوں نا۔ کبھی کسی چیز کو کرنے کا من کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا۔ تھوڑا تو صبر کریں۔
دانش یار، میں بہت تھک چکا ہوں۔ میں تنگ آگیا ہوں۔ ابو کی اس طرح کی یہ سب باتیں سن کر، ان کی روز روز کی گالی گلوچ سن کر۔
راحل! ابھی تم غصے میں ہو۔ دانش نے کہا۔ آؤ میرے ساتھ تھوڑا ریلکس کرو۔ کام ڈاؤن پلیز! تم میرے اچھے دوست ہو نا؟ میری بات سنو گے؟
اچھا آؤ چلو چائے پیتے ہیں۔ اور میں تم کو کچھ باتیں بتاتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ تم ضرور سمجھنے کی کوشش کروگے۔
دیکھو بھائی وہ تمھارے ابو ہیں۔ وہ تمھارے والد ہیں جنھوں نے تمھاری پرورش کی۔ تمھیں گود میں کھلایا، تمھارے لیے ہزاروں پریشانیاں جھیلیں، ہزاروں غموں کو برداشت کیا۔ تمھاری تعلیم و تربیت کا انتظام کیا۔ اور جو کچھ ایک باپ اپنی اولاد کے لیے کر سکتا ہے وہ سب کیا انہوں نے۔
دیکھو تمھارے ابو تم کو جو کچھ بھی بولتے ہیں، اس کو برداشت کرنا ہے اس پر صبر کرنا ہے۔ اور اس کو سمجھنے کی بھی کوشش کرنا ہے۔ اگر کوئی صحیح بات کہ رہے ہیں حتیٰ الامکان اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ بصورت دیگر صبر اور تحمل سے کام لینا ہے۔ ہر گز ایسے ری ایکٹ نہیں کرنا ہے جس کی وجہ سے ان کو تکلیف ہو۔
اچھا تم کو وہ آیت یاد ہے نا جو 15 ویں پارہ، آیت 23 میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
"فَلَا تَقُل لَّهُمَاۤ أُفࣲّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلࣰا كَرِیمࣰا." [الإسراء 23]
والدین کو اف تک نہ کہو اور ان کو جھڑکو بھی مت۔
کلام مجید میں ایک جگہ پر ہے:
"ٱشۡكُرۡ لِی وَلِوَ ٰلِدَیۡكَ." (لقمان 14)
میرے ساتھ اپنے والدین کا بھی شکریہ ادا کرو۔
اور ایک مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَٱلۡكَـٰظِمِینَ ٱلۡغَیۡظَ وَٱلۡعَافِینَ عَنِ ٱلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ یُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِینَ. [آل عمران 134]
یہ وہ لوگ ہیں جو غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔ اور اللہ اچھے کام کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
ایک جگہ پر ارشاد ہے:
وَقُولُوا۟ لِلنَّاسِ حُسۡنࣰا۔ [البقرة 83]
لوگوں سے اچھی بات کرو۔
اور احادیث میں بھی ان چیزوں پر پر تاکید ہے۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر ماں کی نافرمانی کو حرام قرار دیا ہے (بخاری شریف ج: 1، ص: 200/ مسلم شریف ج:2، ص: 75)
ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا:
کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتادوں؟ صحابہ نے عرض کیا: ضرور یارسول اللہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔" (بخاری شریف، حدیث نمبر: 6521)
ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: تیری ماں۔ اور چوتھی مرتبہ فرمایا: تیرا باپ ( صحیح بخاری، رقم: 5971/ صحیح مسلم، رقم: 2548)
دیکھو راحل یہ سب آیات اور احادیث مبارکہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ہمیں ہر حال میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے. ان کے ساتھ نرمی اور محبت کے ساتھ پیش آنا ہے.
اچھا دانش بھائی، آپ نے مجھے یقیناً بڑی ہی کارآمد باتیں بتائی ہیں۔ راحل نے کہا۔ میں ضرور ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ انشاء اللہ۔
لیکن یہ بات تو بتاؤ ابو کا کیا؟ چلو ٹھیک ہے میں صبر کروں گا، حسن سلوک کے ساتھ پیش آؤں گا، اچھا رویہ رکھوں گا، میں اف تک نہیں کہوں گا۔ لیکن ابو؟ ان کو کون سدھارے گا؟ ان کی اصلاح کون کرے گا؟
سہی کہ رہے ہو راحل۔ دانش بولا۔ لیکن ان کو سمجھانا، ان کی اصلاح کرنا، ان کو یہ بتانا کہ وہ غلط کر رہے ہیں، ان کو ایسا کرنا چاہیے یا نہیں؟ ان کو اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے چاہیے یا نہیں یہ فیصلہ کرنا ہمارا چھوٹوں کا کام نہیں ہے۔ وہ بڑوں کا کام ہے۔ آپ ٹینشن نہ لو۔ اس کے لیے راشد انکل ہیں نا۔ تمھارے ابو ان کی بات کو مانتے بھی ہیں، سمجھتے بھی ہیں۔ اس کے لیے میں راشد انکل سے بات کروں گا۔ اور ان کو ساری چیزوں کے بارے میں بتاؤں گا۔ مجھے امید ہے کہ راشد انکل کی بات کو آپ کے ابو ضرور سنیں گے۔ انشاء اللہ.
"انشاء اللہ" راحل نے بھی جوابا کہا۔
پھر دانش راحل کو مخاطب کرتے ہوئے شرارتی انداز میں بولا:
راحل! چائے ٹھنڈی ہوگئی تمھاری۔
ایکسیڈینٹ ہوگیا (افضال احمد کا دوسرا مضمون پڑھیے)
1 تبصرے
بہت بہترین
جواب دیںحذف کریں